Newsroom

Media Kit

ہمارا نصب العین

ملالہ فنڈ ایک ایسی دنیا کے لیے کام کر رہا ہے جہاں ہر لڑکی سیکھے اور قیادت کر سکے۔

ہم کیا کرتے ہیں

آج 130 ملین سے زائد لڑکیاں سکول سے باہر ہیں۔ یہاں ہم ایسی رکاوٹوں کو عبور کر رہے ہیں جو لڑکیوں کو روکے ہوئے ہیں۔

مقامی طور پر تعلیم میں سرگرم افراد پر سرمایہ کاری

ہمارے گل مکئی نیٹ ورک(Education Champion Network) کے ذریعے، ہم مقامی ایجوکیٹرز اور مندوبین پر سرمایہ کاری کرتے ہیں - یہ وہ افراد ہیں جو - ثانوی تعلیم سے محروم لڑکیوں کے علاقے میں - کمیونٹیز کی لڑکیوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔

قیادت کو جواب دہ سمجھنے کے لیے وکالت

ہم - مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر - تمام لڑکیوں کو ثانوی تعلیم دینے کے لیے درکار پالیسی اور وسائل میں تبدیلیوں کے لیے - وکالت کرتے ہیں۔ وہ لڑکیاں جن کی ہم خدمت کرتے ہیں ان کے اپنے کے لیے بڑے مقاصد ہوتے ہیں اور ہمیں ان کی مدد کرنے والے لیڈران کی جانب سے زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔

لڑکیوں کی رائے کو آگے تک پہنچانا

ہم سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کو اپنے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور قیادت کو بتانا چاہیے کہ انہیں سیکھنے اور اپنی قابلیت کو پانے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے۔ ہم فیصلہ سازوں کے ساتھ ملاقات اور ان کی کہانیوں کو اسمبلی، اپنی ڈیجیٹل پبلیکیشن اور نیوز لیٹر کے ذریعے اشتراک کرتے ہوئے لڑکیوں کی آواز کو وسیع تر کرتے ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم کیوں؟

لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کمیونٹیز، ممالک اور ہماری دنیا کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ اقتصادی بڑھوتری، صحت منت افرادی قوت، پائیدار امن اور ہمارے دنیا کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم معیشت کو مستحکم اور ملازمت پیدا کرتی ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں تعلیم یافتہ لڑکیوں کا مطلب عالمی بڑھوتری میں $12 ٹریلین کے ممکنہ اضافے کی حامل کام کرنے والی خواتین کا اضافہ ہے۔

تعلیم یافتہ لڑکیاں صحت مند شہری ہیں جو صحت مند خاندانوں کی پرورش کرتی ہیں۔

تعلیم یافتہ لڑکیوں میں چھوٹی عمر میں شادی یا HIV سے متاثر ہونے کے امکان کم ہے - اور صحت مند، تعلیم یافتہ بچوں کے حامل ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ لڑکی کی جانب سے مکمل کیا گیا سکول کا ہر اضافی سال شیر خوار بچوں کی شرح اموات اور بچوں کی شادی کی شرح دونوں میں کٹوتی کرتا ہے۔

جب لڑکیاں تعلیم یافتہ ہوں تو کمیونٹیز بہت مستحکم ہوتی ہیں اور تنازع کے بعد سرعت کے ساتھ سنبھل سکتی ہیں۔

جب ایک ملک اپنے تمام بچوں کو ثانوی تعلیم فراہم کرتا ہے، تو یہ اس کے جنگ کے خطرے کو نصف کر دیتا ہے۔ تعلیم دنیا بھر میں سیکورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ انتہاپسندی عدم مساوات کے شانہ بشانہ بڑھتی ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری دنیا کے لیے بہترین ہے۔

بروکنگز ادارہ لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کو انتہائی سود مند اور موسم کی تبدیلی کے خلاف بہترین سرمایہ کاری گردانتا ہے۔ تحقیق یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کسی ملک کی قدرتی آفات کی زد پذیری میں تخفیف کرتی ہے۔

ہم کہاں کام کرتے ہیں

ملالہ فنڈ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایسے ممالک میں جہاں ان کا سکول سے محروم ہونے کا انتہائی امکان ہو، ایجوکیٹرز اور مندوبین میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔

  • افغانستان

    خواتین اساتذہ کی بھرتی اور صنفی امتیاز کا خاتمہ

    read more
  • برازیل

    مقامی اور افریقی برازیلی لڑکیوں کے لئے  وکالت، تحقیق اور اساتذہ و نوجوان رہنماؤں کے لیے تربیت کے ذریعہ تعلیمی مواقع کو بہتر بنا رہا ہے۔


    read more
  • ایتھوپیا

    لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومتوں کو متحرک کرنا تاکہ وہ کم عمری کی

    شادیوں کی روک تھام کریں، اسکولوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے رہنما اصولوں کی ترویج اور

    اسکولوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم دوست حلقوں کا قیام

    read more
  • انڈیا

    وکالت، معلم سازی پروگرامز اور دوبارہ داخلے کی مہمات کے ذریعے مفت ثانوی تعلیم کے لیے رسائی کا فروغ

    read more
  • لبنان

    ہمارا عزم:

    کم عمری کی شادی کی روک تھام اور امدادی منصوبوں اور ڈیجیٹل اسباق کے ذریع

    اسکولوں سے باہر لڑکیوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دینا

    read more
  • نائجیریا

    بوکو حرام کے خطرے میں رہنے والی لڑکیوں کی سکول جانے میں مدد اور نئی پالیسیز کے لیے مہم سازی جو ہر لڑکی کے لیے 12 سال کی مفت، محفوظ، معیاری تعلیم کی معاونت کرے

    read more
  • پاکستان

    تعلیم کے لیے درکار وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا، لڑکیوں کے لیے اسکولوں کی تعمیر اور نوجوان خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے میں مدد دینا

    read more
  • ترکی

    ہمارا عزم:

    کمیونٹی رابطہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے شامی مہاجر لڑکیوں کو اسکولوں میں داخل کرانا اور ان کے بہتر طور پر سیکھنے کے لیے اساتذہ کی تربیت کرنا

    read more

ہماری قیادت

(ملالہ یوسفزئی) Malala Yousafzai


ملالہ یوسفزئی، ملالہ فنڈ کی مشترکہ بانی اور بورڈ ممبر ہیں۔ ملالہ نے 11 سال کی عمر میں تعلیم کے لیے اپنی مہم کا آغاز کیا جب انہوں نے پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے زیر اثر علاقے میں زندگی کے متعلق بے نام طور پر BBC کے لیے بلاگ لکھنا شروع کیا۔ اپنے والد کی فعالیت سے متاثر ہو کر، ملالہ نے جلد ہی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عوامی طور پر وکالت شروع کر دی - اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اور ایوارڈز کو اپنی جانب مبذول کر لیا۔


15 سال کی عمر میں، آواز بلند کرنے کی پاداش میں انہیں طالبان کی جانب سے گولی مار دی گئی۔ ملالہ برطانیہ میں صحت یاب ہوئی اور لڑکیوں کے لیے اپنی جنگ جاری رکھی۔ 2013 میں، انہوں نے اپنے والد ضیا الدین (Ziauddin) کے ساتھ ملالہ فنڈ


 کی بنیاد رکھی۔ ایک سال بعد، ملالہ نے ہر لڑکی کے 12 سال تک کی مفت، محفوظ، معیاری تعلیم مکمل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کے اعتراف میں امن کا نوبل انعام وصول کیا۔


ملالہ فی الحال آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلاسفی، سیاسیات، اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔


(ضیاء الدین یوسفزئی)
 Ziauddin Yousafzai


ضیاء الدین یوسفزئی ملالہ فنڈ کے مشترکہ بانی اور بورڈ ممبر اور ملالہ کے والد ہیں۔ متعدد سالوں کے لیے، ضیاء الدین نے اپنے آبائی ملک پاکستان میں بطور استاد اور سکول کے منتظم ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں۔


جب طالبان نے سوات میں ان کے گھر پر حملہ کیا، تو ضیاء الدین نے پرامن طور پر ذاتی آزادی کو محدود کرنے کی ان کی کوششوں کی مزاحمت کی۔ آواز اٹھانے کی پاداش میں ضیاء الدین کو خطرات لاحق ہو گئے، لیکن انہیں یہ خدشہ تھا کہ خاموش رہنا ان کے لیے مزید بدتر ہو گا۔ اپنے والد کی مثال سے متاثر ہو کر، ملالہ نے سکول جانے کے ضمن میں لڑکیوں کے لیے عوامی مہم شروع کر دی۔


اکتوبر 2009 میں، نیو یارک ٹائمز نے سوات میں ضیاء الدین اور ملالہ کی لڑکیوں کی تعلیم کو تحفظ دینے کی جدوجہد کے متعلق مختصر ڈاکومینٹری فلم بند کی۔ ان کی بڑھتی شہرت کی وجہ سے، ملالہ کو دو سال بعد طالبان کی جانب سے سر میں گولی مار دی گئی۔ ملالہ کی زندگی بچ گئی اور علاج کے لیے انہیں برطانیہ میں منتقل کر دیا گیا۔ ضیاء الدین، ان کی زوجہ طور پکئی(Toor Pekai) اور ان کے دو بیٹے ملالہ کے پاس برمنگھم میں منتقل ہو گئے۔


اپنی مہم کو جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ، ضیاء الدین اور ملالہ نے 2013 میں ملالہ فنڈ کی بنیاد رکھی۔ باہم مل کر انہوں نے 12 سال کی مفت، محفوظ اور معیاری تعلیم کے لیے جدوجہد کی۔


U.S.

Malala Fund
P.O. Box 73767
Washington, D.C. 20056

press@malalafund.org